مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں گرفتاریوں میں اضافے کے باعث جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک سنگین بحران بن گئی ہے۔
فرانسیسی وزارتِ انصاف کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ اکتوبر کے آغاز میں ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 90 ہزار 937 تک پہنچ گئی، جبکہ جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف 63 ہزار 452 افراد کی ہے۔ اس طرح جیلوں میں گنجائش کے مقابلے میں قیدیوں کی شرح 143.3 فیصد ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جیلوں میں بستروں کی کمی کے باعث تقریباً 8 ہزار 959 قیدی زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 52 فیصد زیادہ ہے۔
فرانس کی بعض جیلوں میں صورت حال مزید سنگین ہے اور وہاں قیدیوں کی تعداد سرکاری گنجائش سے دوگنا سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ یہ بحران صرف بستروں کی کمی تک محدود نہیں بلکہ یورپی اداروں اور اقوام متحدہ نے بھی گزشتہ برسوں کے دوران فرانسیسی جیلوں میں بھیڑ، غیر صحت بخش ماحول، تشدد اور قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب فرانس میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتاریوں اور پولیس کی حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد بھی 12 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
آپ کا تبصرہ